‏ طاغوت مرد| Taghut ka matlab Kia hy | Taghot kya hai

 Taghut ka matlab Kia hy | Taghot kya hai



میں اس طرح کے ٹاپکس پہ بہت کم لکھتی ہوں۔ کیونکہ یہ لا حاصل بحث کے علاوہ کچھ نہیں۔
ہمارے ہاں عورت کو لڑکی کو یونہی بھرے مجمے ، محفل اور چاردیواری میں چُپ کروا دیا جاتا ہے کہ تم مت بولو تم لڑکی ہو، تم چھوٹی ہو ،
ہمارے ہاں لڑکی کو عقل مند ماننے کا تصور ہی مرد کو ہولا کر رکھ دیتا ہے ، یہاں جتنے لطیفے عورت کی کم عقلی لا علمی پہ بنائے جا سکتے ہیں بنائے جاتے ہیں۔
کیا آپ مرد خلفیہ کہہ سکتے ہیں آج سے پہلے آپکو طاغوت کا مطلب پتا تھا؟
جہاں آپ ایک صنفِ نازک کو سمجھدار دیکھیں وہیں اس پہ فتوے لگا دیتے ہیں۔
خلیل الرحمٰن کے بقول ' بدتمیزی نہ کرو ۔۔۔لے لو اس سے مائیک'
لہجہ آپ انکا بخوبی جانتے ہیں۔

}کیا یہ تذلیل نہیں اس لڑکی کی؟ ایک جانا مانا رائٹر جو احساس کو لکھتا ہو، کیا وہ self respect کا مطلب نہیں جانتا؟ اگر وہ پیار سے کہتا
' کہ بحث چھوڑ دو، ضد نہ کرو ' ، تو انکی اَنا مجروع ہو جاتی ؟
سوال پہ سوال ہیں۔
پوچھا جاتا ہے لڑکیاں اتنا Gpa لے کر آخر جاتی کہان ہیں؟ کرتی کیا ہیں؟
تو جواب یہ ہے کہ وہ اس GPa کے بعد یونہی چپ کروا کر دیوار سے لگا دی جاتی ہے، یونہی آج کیا پکاوں سے لیکر منے کا ڈائیپر بدلنے سے لیکر اسکی شادی کروانے تک کھپ جاتی ہے، جسکو آپ نہ کام سمجھتے ہیں نہ ذہانت نہ ہی اسکے شکر مند ہوتے ہیں۔
وہ لڑکیاں اپنی ڈگری کو اپنا اعزاز سمجھ کر الماری سمبھال لیتی ہیں اور اپنے سربراہ کی پیروی کرنے لگتی ہے اس سے بلاتر ہو کر کے سربراہ اس قابل ہے یا نہیں۔ ہمارہ معاشرہ ایک آزاد عورت کو قبول کرنے کا روا دار ہی نہیں ہزاروں چبتی نظریں ، سوال اور شادی ٹوٹ جانے کا خوف اسکو اپنا gpa بھلا دیتا ہے۔
اور پھر اس پہ ہنسا جاتا ہے۔
Hahahhaha woman

ہماری 95 فیصد جاہل بہن بیٹیوں ماؤں سے گزارش ہے ایسے بیٹے کی چاہ ہرگز نہ رکھنا جو پیدا کرنء پالنے پوسنء کے بعد تمہیں جہالت کی ڈگری دے دے
سب سے آخرمیں ، خدارا ہمارا مذہب اتنا تنگ نظر نہیں غیر مسلموں کو اس سے بدظن نہ کریں،
ہمارے کسی نبی، کسی صحابی نے کبھی کسی عورت کو جاہل نہیں کہا ، اس سے بڑی دلیل اور کوئی نہیں کہ اسلام نہایت خوبصورت دین ہے، جس میں عورت کو سر کا تاج بنایا گیا ہے، نہ کے پاؤں کی جوتی۔



‏طاغوت مرد


طاغوت عربی زبان کا لفظ ہے جس کا معنی ہیں گمراہوں کا سردار ،بت، جادو،جادوگر،سرکش، دیو اور کاہن

ایک سوٹ بوٹ اور انگریز طرز کے ملاں کے مطابق

اگر عورت کو طاغوت کا نہیں پتہ تو وہ جاہل ہے۔ ان کے مطابق 95 فیصد عورتیں جاہل ہیں۔

جی ہاں ان کی بات بالکل درست ہے جو عورت کسی طاغوت کو اپنا مجازی خدا سمجھ بیٹھتی ہے وہ واقعی کم عقل، کم علم اور جاہل ہے کیونکہ اس کا شمار معاشرے کی ان 95 فیصد میں ہوتا ہے جو اپنی شرافت اور انکساری کی وجہ سے اپنے اردگرد طاغوتوں کو پہچان نہیں پاتی۔ جو پہچان جاتی ہے وہ باقی 5 فیصد کے ساتھ شامل ہو جاتی ہے تو وہ کسی چوک میں اپنے حقوق کا مطالبہ کر دیتی ہے پھر انہی طاغوتی مردوں کے نزدیک وہ بدکار ، بدچلن اور دو ٹکے کی ہو جاتی ہے

کیونکہ 95 فیصد اپنی اردگرد طاغوتوں کی وجہ سی اپنی جائز خواہشات کا گلہ گھونٹ دیتی ہیں ۔ وہ اپنی محبت کا اظہار نہیں کر سکتی تاکہ کہیں کوئی طاغوت غیرت کے نام پر قتل نہ کر دے۔ وہ نوکری پر گھر سے باہر نہیں جا سکتی کیونکہ کسی طاغوت کو لگتا ہے کہ اس جیسا کوئ طاغوت باہر موجود نہ ہو۔ کچھ طاغوت تو پڑھانے کو بھی اپنی طاغوتی طاقت کے خلاف خطرہ سمجھتے ہیں۔اور کچھ طاغوت فیصلہ کرتے ہیں کہ انکی بہن بیٹی اگر پڑھے گی تو کیا پڑھے گی۔کیونکہ نٹشے کے مطابق کسی فاتح کی فتح تب تک قائم رہتی ہے جب تک مفتوح کو شعور نہ آجاۓ اپنی آزادی کا ۔ اور ایسی زہریلی ذہنیت ان طاغوتوں کی ہے جنہوں نے نا جانے کتنی عورتوں کی خوشیوں کا خون کیا ۔ کچھ جعلی ملا نما طاغوتوں کے مطابق تو بیٹی کو سکول بھیجنا بھی زلالت ہے ۔ لیکن اسی بیٹی کے نام پر آئے سرکاری فنڈ کو ہڑپ کرنا فرض اول سمجھا جاتا ہے ۔

دراصل عورت سوال کرتی، اپنی حرمت کا تحفظ مانگتی، تعلیم اور شعور حاصل کرتی اور اپنے معاشرتی زندگی میں یکساں حقوق مانگتی عورت کا چہرہ ان بزدل طاغوتوں کو کسی ماہر تیر انداز کا تیر لگتا ہےاور اس کے کاری وار سے بچنے کے لیے کبھی مذہب کے لحاف میں دبکنے کی کوشش کرتے ہیں تو کبھی اپنے غراتے ہوئے وحشیانہ لہجے سے اثر انداز ہونے کی کوشش کرتے ۔ حقیقت میں یہ طاغوت مذہب سے ناواقف اور نابلد ہیں انہیں کسی ممبر پہ بیٹھے مولوی یہ تو بتایا ہوتا ہے کہ کتنی عورتوں سے نکاح کر سکتے ہیں، کتنی باندیاں اور غلام حاصل کر سکتے ہیں اور کتنی حور العین جنت میں اسکا انتظار کر رہی ہیں جہاں یہ اپنی درندگی اور حوس کی آگ بجھا سکتے ہیں لیکن وہ ملاں یہ نہیں بتاتا وہ عورت جو اس کی محرم ہے اس کی تعلیم ،نان و نفقہ اور دیگر حقوق کی فراہمی بھی اس مذہب نے ضروری قرار دیۓ ہیں

ساحل عدیم اور خلیل الرحمٰن قمر کا سوال اٹھاتی اس عورت پر ٹوٹ کر پڑنا دراصل اس بات کی تقویت بخش رہا تھا کہ اس بے حس معاشرے میں طاغوتیت کس حد تک سرایت کر چکی ہے جس ڈھٹائی سے وہ اپنی متعصبانہ بات کی تاویل پیش کر رہے تھے وہ تو شاید اس معاشرے میں ناقابل علاج ہے لیکن

سوال تو یہ بنتا ہے کیا ان 95 فیصد عورتوں میں منیار پاکستان پر جانے والی وہ عورت بھی شامل تھی جہاں طاغوتوں کا ایک جھنڈ اسے کاٹنے کو دوڑ رہا تھا؟ کیا ان 95 فیصد جاہل عورتوں میں وہ ماریہ نام کی لڑکی بھی شامل تھی جسے دو طاغوت باپ اور بھائی نے زیادتی کے بعد قتل کر دیا تھا اور اس کی لاش پر بیٹھ کر پانی پیا؟ کیا ان میں لاہور کی ننھی زینب بھی شامل تھی ؟ کیا ان اسلام آباد کی سویرا بھی شامل تھی ؟ کیا ان وہ کمسن گھریلو ملازماؤں کو بھی شامل کیا گیا جنہیں مالکان کی طرف سے تشدد کا نشانہ بنایا گیا ہے ؟ کیا ان 95 فیصد میں وہ عورت بھی شامل ہے جسکو لائیو ٹی وی پر ایک طاغوت نے " کتے کی بچی بولا"؟ کیا ان میں 95 فیصد میں وہ جسم فروش طوائفیں بھی شامل ہیں جنہوں کچھ درندہ صفت طاغوت اپنی عیاشیوں کے لیے سیگریٹ وغیرہ سے ٹارچر کرتے ہیں یا قتل کر دیتے ہیں ؟

اور اگر یہ سب شامل ہیں تو انہیں جاہل رکھنے کا سہرا کس طاغوت کے سر جاتا ہے ؟

اگر کسی کو ان سوالوں کے جواب معلوم ہوں تو مجھے بھی آگاہ کیجئے گا شکریہ

Comments

Popular posts from this blog

life quotes

clever care health plan

We will all walk together