مسجد الاقصي
مسجد الاقصي
مسجد الاقصى، جس کو عربی میں “المسجد الاقصى” کہا جاتا ہے، اسلامی تاریخ کے بہت اہم مقامات میں سے ایک ہے۔ یہ مسجد قدس کے شہر میں واقع ہے جو فلسطینی خطے میں ہے۔ اس کی تعمیر کا وقت خطابتا ہے، لیکن اس کی بنیادی تعمیر ہرود کے خلافتی خلیفہ عبد الملک بن مروان کے زمانے میں ہوئی۔
مسجد اقصی مسلمانوں کا قبلہ اول اور خانہ کعبہ اور مسجد نبوی کے بعد تیسرا مقدس ترین مقام ہے۔
مقامی مسلمان اسے المسجد الاقصیٰ یا الحرم القدسی الشریف کہتے ہیں۔ یہ مشرقی یروشلم میں واقع ہے جس پر اسرائیل کا قبضہ ہے۔ یہ یروشلم کی سب سے بڑی مسجد ہے جس میں 5 ہزار نمازیوں کی گنجائش ہے جبکہ مسجد کے صحن میں بھی ہزاروں افراد نماز ادا کرسکتے ہیں۔ 2000ء میں الاقصیٰ انتفاضہ کے آغاز کے بعد سے یہاں غیر مسلموں کا داخلہ ممنوع ہے۔
حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سفر معراج کے دوران مسجد حرام سے یہاں پہنچے تھے اور مسجد اقصیٰ میں تمام
انبیاء کی نماز کی امامت کرنے کے بعد براق کے ذریعے سات آسمانوں کے سفر پر روانہ ہوئے۔
مسجد الاقصى اسلامی روایات کے مطابق رسول اللہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں معراج کی مقام ہے۔ مسجد الاقصى کی عمارت ارضی علاقے پر پھیلی ہوئی ہے اور اس کے اندر کئی حصوں کو شامل کیا گیا ہے۔ اس کی بنیادی عمارت پاگامبر ابراہیم علیہ السلام اور ان کے بیٹے حضرت اسحاق علیہ السلام کے زمانے میں بنائی گئی تھی۔
وہ مسجد جو کہ نماز کی جگہ ہے وہ قبۃ الصخرۃ نہیں، لیکن آج کل قبہ کی تصاویر پھیلنے کی بنا پر اکثر مسلمان اسے ہی مسجد اقصیٰ خیال کرتے ہيں حالانکہ فی الواقع ایسی کوئی بات نہیں مسجد تو بڑے صحن کے جنوبی حصہ میں اور قبہ صحن کے وسط میں ایک اونچی جگہ پر واقع ہے۔
یروشلم دنیا کے قدیم ترین شہروں میں سے ایک ہونے کے ساتھ ساتھ تین بڑے مذاہب اور قوموں مسلمان، عیسائی اور یہودی تینوں کے لئےاہمیت کا باعث ہے۔ بیت المقدس مسلمانوں کا قبلہ اول ہے یہ وہ قبلہ اول جہاں محمد صلؔی اللہ علیہ وآلہٖ وسلؔم نے تمام انبیاء کی امامت کی اس وقت سے یہ مقام مسلمانوں کے لیے بے پناہ عزت و مقام رکھتا ہے حقیقت یہ ہے کہ قبلہ اول بیت المقدس صرف مسلمانوں کے لیے ہی نہیں بلکہ یہود ونصاریٰ سب کے لیے یکساں اہمیت کا حامل ہے۔
لوگوں پر گمان گزرا کہ کسی انتہا پسند یہودی نے یہ ناپسندیدہ حرکت کی ہوگی۔نصف صدی قبل 21اگست 1969ء کو بھی ایک انتہا پسند آسٹریلوی نوجوان نے مسجد اقصیٰ میں آگ لگانی چاہی تھی۔ اس حادثے نے دنیا بھر میں مسلمانوں کو مشتعل کر دیا ۔ چنانچہ سعودی عرب کے شاہ فیصلؒ کی سعی سے سربراہان اسلامی ممالک کااجلاس ہوا جس میں آئندہ مسائل پر متفقہ لائحہ عمل طے کرنے کی خاطر ایک تنظیم (او آئی سی) کی بنیاد
..رکھی گئی
.jpeg)

.jpeg)
Comments
Post a Comment